16 دسمبر 2011 - 20:30

آل ثانی خاندان کے قطری شیخ نے آخرکار ایک بڑے راز سے پردہ اٹھا ہی لیا اور وہ یہ کہ آل ثانی خاندان کے حکمران وہابیت کے حلقہ بگوش ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے دوحہ میں قطر کی سب سے بڑی مسجد کے افتتاح کے موقع پر وہابیت کی حلقہ بگوش ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ دنیائے اسلام کو وہابیت کے تجربے سے استفادہ کرنا چاہئے۔واضح رہے کہ دوحہ میں تازہ بننے والی مسجد کو وہابی اسلام کے پیشوا "محمد بن عبدالوہاب النجدی" کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ دریں اثناء مڈل ایسٹ آنلائن نے لکھا کہ دوحہ میں مسجد محمد بن عبدالوہاب النجدی کی تعمیر سے ایک ابلاغی طوفان اٹھ گیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ خلیج فارس کی چھوٹی سی ریاست "قطر" کے امیر کا یہ اقدام خلیج فارس کے علاقے کے نئے سیاسی نقشے کی ترسیم میں اس ریاست کے کردار اور بطور خاص امریکہ و اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کرنے میں آل سعود کے ساتھ آل ثانی کی شدید رقابت و مسابقت کے تسلسل کا شاخسانہ ہے۔لگتا ہے کہ آل ثانی کے امیر سعودی عرب سے اس کا ہتھیار یعنی "وہابیت" بھی چھین لینا چاہتے ہیں جبکہ کچھ عرصہ قبل ایک سعودی شہزادے نے کہا تھا کہ قطر سعودی عرب کو تقسیم کرنا چاہتا ہے اور اس کو اس حوالے سے اسرائیل اور امریکہ کی حمایت بھی حاصل ہے:

[رجوع کریں: طلال بن عبدالعزیز کے اہم انکشافات]

ایک لاکھ پچھتر ہزار مربع میٹر کے رقبے پر تعمیر ہونے والی مسجد محمد بن عبدالوہاب کا افتتاح کرتے ہوئے قطر کے شیخ نے کہا: ریاست قطر کے بانی اور ہمارے جد امجد جو عالم دین بھی تھے اور حاکم بھی تھے، ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے محمد بن عبدالوہاب کی دعوت قبول کرلی اور اس کو قطر اور بیرونی دنیا میں رائج کیا اور اپنے آپ کو ہندوستان میں وہابیت کی کتابوں اور دیگر کتب کی ترویج کا ذمہ دار قرار دیا۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ آل ثانی خاندان نے وہابیت کی نسبت اپنی وفاداری کا اعلان کرکے وہابی دعوت کی پابندی ظاہر کی ہے جو عرصہ دراز سے اس ریاست میں مہجور رہی ہے؛ جبکہ ظاہری صورت سے واضح ہورہا تھا کہ یہ ریاست دوسرے عقائد کو وہابیت پر فوقیت دے رہی ہے۔ گو کہ اس ریاست کے مصری مفتی القرضاوی کی رائے ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے جو نظری طور پر وہابیت کے خلاف ہیں لیکن شام کے حوالے سے آل ثانی کے امیر اور سعودی وہابیوں کے دوش بدوش کھڑے ہوئے ہیں اور اسرائیل مخالف محاذ کو کمزور کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کررہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کی غاصب ریاست کو مضبوط کرنے کے حوالے سے بھی امیر قطر کا کردار دوسری خلیجی ریاستوں سے کہیں زیادہ فعال رہا ہے۔ دریں اثناء قطر کے عوام کی رائے یہ ہے کہ یہ مسجد جو قطر کے قومی دن کے موقع پر عوام کے لئے کھول دی گئی ہے ریاست قطر کے بانی شیخ جاسم بن محمد آل ثانی کے نام سے منسوب کی جانی چاہئے تھی؛ کیونکہ محمد بن عبدالوہاب کے نظریات ان کے عقائد سے متصادم ہیں۔بعض دیگر  ذرائع کی رپورٹوں کے مطابق مسجد کے افتتاح کے موقع پر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے کہا کہ آج اسلامی امت کو اپنے عقائد پر نظر ثانی کرنے اور دین کے تحفظ کے حوالے سے وہابیوں کے عزم و اہتمام سے سبق لینا چاہئے اور وہابیت کی برکت سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھ کر وہابیت کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انھوں نے کہا: ہم نے اس مسجد کو "مسجد محمد بن عبدالوہاب" کا نام دیا کیونکہ محمد بن عبدالوہاب ایک عظیم مصلح، بڑے عالم اور اپنے زمانے کے مجدد تھے اور ہمارے اس اقدام کا مقصد ان علماء کی تکریم و تعظیم بھی ہے جو ان کے تفکرات کو بدستور فروغ دے رہے ہیں اور اسلام و مسلمین کی خدمت میں مصروف ہیں!۔۔۔۔۔۔۔۔

/110